نئی دہلی: سومترا سین نے پارلیمنٹ میں مواخذے کی تحریک منظور ہونے پر استعفیٰ دیدیا۔ بھارتی پارلیمنٹ نے جج کیخلاف مواخذے کی تحریک منظور کی تھی۔ سومترا سین پر
سٹیل اتھارٹی آف انڈیا اور شپنگ اتھارٹی آف انڈیا کے درمیان عدالتی تنازعہ میں تقریبا تینتیس لاکھ روپے کے غلط استعمال کا الزام ہے۔ بھارتی راجیہ سبھا نے گزشتہ ماہ کے وسط میں جسٹس سومترا سین کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پیش کی گئی قرارداد کی اکثریت رائے سے منظوری دے دی تھی۔ اس تجویز کے حق میں ایک سو نواسی اور مخالفت میں سترہ ارکان نے ووٹ دیا۔ یہ بھارت کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ہائی کورٹ کے کسی جج کے خلاف ایسی قرارداد منظور کی گئی ہے۔ اب لوک سبھا میں بھی اس معاملے پر پانچ ستمبر کو بحث ہونی تھی اور خیال کیا جا رہا تھا کہ لوک سبھا میں بھی انہیں عہدے سے ہٹانے کی حمایت کی جائے گی۔ صدر کو بھیجے جانے والے استعفے میں جسٹس سین نے لکھا ہے کہ چونکہ راجیہ سبھا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ بطور جج کام نہ کریں اس لیے وہ اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں اور اب عام شہری کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں نے اپنا استعفیٰ صدر کو بھیج دیا ہے اور اس کی نقل لوک سبھا سپیکر کو بھجوا دی ہے۔ سومترا سین سے پہلے نویں لوک سبھا کے دوران سنہ انیس سو ترانوے میں مدراس کے جسٹس راما سوامی کے خلاف قرارداد لائی گئی تھی لیکن وہ منظور نہیں ہو سکی تھی۔ بھارت کے چیف جسٹس اور راجیہ سبھا کے چیئرمین نے الزامات کی تحقیقات کے لیے جو کمیٹی بنائی تھیں اس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ سومتر اسین نے پہلے وکیل کے طور پر اور بعد میں جج کے طور پر اس بینک اکاؤنٹ سے کئی بار چیک سے اور نقد پیسے نکالے جس کے وہ ریسیور تھے۔
سرورق » خاص خاص خبریں, عالمی خبریں » کرپشن الزامات، کولکتہ ہائیکورٹ کے جج مستعفی