سرورق » آج کےکالم

ہمیشہ دیر کردیتے ہیں ہم

اطہر علی ہاشمی ایک سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ 15 اپریل 2010 ءکو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کمیشن کی رپورٹ کو دو ماہ چھ دن گزرنے کے بعد 21 جون کو کیوں مسترد کیا گیا؟ اس میں حیرت کی کیا بات ہے‘ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پوری کی پوری رپورٹ انگریزی میں تھی۔ اس کو پڑھنے اور سمجھنے میں وقت تو لگتا ہی ہے جبکہ وقت حکمرانوں میں سے کسی کے پاس نہ تھا۔ وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی اس پورے عرصہ میں بہت مصروف رہے۔ انہوں نے واشنگٹن جاکر امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے ۔۔۔  مزید تفصیل

اسرائیل کے مہلک ہتھیار اور امریکا کی خاموشی

”اسرائیل عالم اسلام کے قلب میں ایک سرطانی غدود کی طرح پیوست ہے‘ اس کو کاٹ کر پھینک دینا چاہیے“ یہ جملہ بانی انقلاب اسلامی ایران کا ہے۔ صہیونی حکومت فلسطین پر ناجائز قبضے کے ذریعے 1948 ءمیں قائم ہوئی اور آج تک اس سرزمین کے اصل باشندوں (فلسطینیوں) پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتی چلی آرہی ہے۔ اسرائیل ہمسایہ عرب اور اسلامی ممالک کے لیے خطرات کا سبب ہے‘ یہ ایٹمی اور کیمیائی ہتھیاروں سے لیس ہے‘ جب کہ امریکا اور مغربی طاقتیں اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں پر ۔۔۔  مزید تفصیل

پاکستان چین جوہری تعاون: امریکا کی مخالفت

پاکستان اور چین نے ایک معاہدہ کیا جس کی رو سے چین پنجاب میں دو جوہری کارخانے تعمیر کرے گا۔ یہ معاہدہ وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ توانائی کے بحران کے باعث ملک نہ صرف اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے بلکہ اس سے ملک کا صنعتی‘ زراعتی‘ تجارتی عمل تقریباً مفلوج ہوچکا ہے۔ اس لیے پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر جوہری ایندھن تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ توانائی کے بحران پر قابو پایا جاسکے۔ پہلے تو امریکا نے یہ تاثر دیا کہ اگر پاکستان چین سے اس نوعیت کا معاہدہ کرتا ۔۔۔  مزید تفصیل

امریکوں کا قبرستان افغانستان

افغانستان کی سرزمین پر ایک لاکھ 42 ہزار غیرملکی فوجی بظاہر نیٹو کے بینر تلے مگر حقیقت میں امریکی چھتری کے نیچے‘ ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان غیر ملکی طالع آزما فوجیوں کو سرزمین افغانستان میں اب دن میں بھی تارے نظر آرہے ہیں۔ ان کے حوصلے اس قدر پست ہیں کہ افغانستان میں ان جنگجو افغان لیڈروں کی منت سماجت کرکے انہیں سیکورٹی کی ذمہ داریاں سونپ رہے ہیں جنہیں کبھی یہ ناقابل اعتبار قرار دیتے تھے۔ قندھار اور اس سے ملحقہ علاقوں میں اتحادی فوجوں اور ۔۔۔  مزید تفصیل

عمدہ ادبی کارکن حسن ظہیر مرحوم…. اس نئے ادبی انعام کے بانی قابل ستائش ہیں….نقارخانے میں…جمیل الدین عالی

پچھلے اظہاریے کا ناغہ ہوا۔ وجوہ کا بیان غیر ضروری ہے۔ بس ایسی ہونگی کہ کچھ نہ لکھا جا سکا… حسن ظہیر مرحوم پر بہت کچھ چھپ رہا ہے ابھی اور چھپے گا۔ ان کی ذات اور کارناموں کی تعداد اور معیار کافی تفصیل طلب ہیں تاکہ ادب و صحافت کے رسیا ان سے رہنمائی حاصل کر سکیں اور اپنی جگہ ایک منفرد، مضبوط امکان حیات بھی ریکارڈ پر آ سکے۔ کارکن صحافیوں کا پیشہ بھی ایسا ہے کہ انہیں ہر وقت کسی نہ کسی طبقے، خصوصاً کسی نہ کسی سرکاری شعبے سے راست یا بالواسطہ سزا کیلئے تیار ۔۔۔  مزید تفصیل

یہ اندازِ گفتگو کیا ہے!! ….قلم کی آواز…سید انور قدوائی

ملک اس وقت اندرونی و بیرونی خطرات سے ہی نہیں بلکہ سنگین معاشی اور اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔ عوام کے مصائب و مسائل میں کمی تو دور کی بات ہے ،روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور یہ احساس دوچند ہوتا جا رہا ہے کہ حکمرانوں کو بے بس اور بے کس عوام کا کوئی دکھ نہیں ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ تمام منتخب جماعتوں کے قائدین سرجوڑ کر بیٹھتے اور پارٹی منشور کے مطابق مظلوم انسانوں کو ایسا ریلیف دیتے کہ وہ بھی سکھ کا سانس لے سکتے۔ لیکن حکمران ہی نہیں سیاستدان سب اس وقت ”عوام ۔۔۔  مزید تفصیل

پریچر ،ٹیچر اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی….چوراہا …حسن نثار

لکھنا تو دراصل کسی اور موضوع پر ہے لیکن آج کے کالم کا ایک حصہ مجھے”ابھرتے ہوئے“کالم نگار برادرعزیز رؤف کلاسرا کے لئے وقف کرنا ہوگا جس سے میری ایک انتہائی معمولی اور بے ضرر سی خوشی بھی برداشت نہ ہوئی۔”حسرت ان خنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے“ لیکن ان مرجھائے ہوئے غنچوں پر ماتم سے پہلے … ”ابھرتے ہوئے“کا پس منظر سمجھ لیں۔ ہمارے بچپن اور لڑکپن کے دنوں میں پاکستان کی فلم انڈسٹری نہ صرف زوروں پر تھی بلکہ بھارتی سینماکا بھی ڈٹ کر مقابلہ کررہی تھی۔ ۔۔۔  مزید تفصیل

لفظوں کی بازی گری ناصر حسنی

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ایوان صدر اور ایوان عدل میں ”تناﺅ“ کی جو صورتحال دکھائی دے رہی ہے دراصل وہ ”بناﺅ“ کی ایک نئی صورت گری ہے جسے لفظوں کی بازی گری بھی کہا جاسکتا ہے مگر بار اور بنچ کے مابین جو چپقلش ظہور پذیر ہورہی ہے وہ خطرے کی ایسی گھنٹی ہے جسے بہرے بھی سن سکتے ہیں سوائے مقتدر طبقے کے۔ وطن عزیز میں بااختیار اور مقتدر ہونا ہی عزت نفس کی معراج سمجھا جاتا ہے بدقسمتی یہ ہے کہ وکلا بھی اسے اپنا نصب العین بلکہ نور العین بنا بیٹھے ہیں حالانکہ ۔۔۔  مزید تفصیل

موجودہ نظام کے تحت انتخابات کیوں؟

پاکستان میں فوجی جنرلوں اور سیاسی حکمرانوں نے انتخابات کو جس نہج پر پہنچادیاہے وہ اتنے مشکل ہوگئے ہیں کہ موجودہ نظام کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کا مطلب سیاسی پارٹیوں کی تباہی ہے اور انتخابات کے نتائج کا علم پہلے سے ہوجاتا ہے۔ ملک کے موجودہ ڈھانچے نے سیاست میں بدترین کرپشن کو رواج دیا ہے اورہرآنے والا دن اس میں مسلسل اضافہ کررہا ہے۔ اس کرپشن اور لوٹ مار میں فوجی جنتا کے جنرل اور سیاست دان برابر کے شریک رہے ہیں اور اس شراکت میں حکومت کو چلانے ۔۔۔  مزید تفصیل